111

سانحہ اوجڑی کیمپ ذمہ دار آزاد کیوں؟

Spread the love

اپریل 1988 کو اتوار کی صبح تھی، جب نو بجکر 50 منٹ پر جڑواں شہر راولپنڈی اور اسلام آباد زوردار دھماکے سے لرز اٹھے۔

ابھی لوگ دھماکے کی وجہ جاننے کی کوشش کر ہی رہے تھے کہ ہر طرف سے ان پر راکٹوں اور میزائلوں کی بارش ہونے لگی۔ یہ ایک ہولناک منظر تھا۔ قیامت کی وہ گھڑی جس میں راولپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم پر فیض آباد میں اوجڑی کیمپ کے اندر اسلحہ ڈپو میں لگنے والی آگ کے باعث بم پھٹ رہے تھے۔

میزائل اور راکٹ اُڑ اُڑ کر دونوں شہروں کے مختلف حصوں میں گر کر تباہی پھیلا رہے تھے۔ سڑکوں پر موجود لوگ پناہ کی تلاش میں بھاگ رہے تھے۔ کسی نے اس کو انڈین حملہ قرار دیا تو کسی نے کہا کہ اسرائیل نے اٹیک کیا ہے۔ سڑک پر چلتی گاڑیاں نشانہ بن رہی تھیں۔

راکٹ اور میزائل لوگوں کے سروں پر سے ہوتے، خوف و ہراس پھیلاتے زمین پر گر رہے تھے، جڑواں شہروں میں ٹیلی فون بجلی اور گیس کی فراہمی کے نظام درہم برہم ہو چکے تھے۔ چکلالہ میں بین الاقوامی ہوائی اڈہ بند کر دیا گیا اور پروازوں کی آمد و رفت روک دی گئی۔

اشتہار

اوجڑی کیمپ سے کئی کلومیٹر دور ایوان صدر اور پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر بھی کئی راکٹ گرے۔ اُن دنوں ہفتہ وار چھٹی جمعہ کو ہوتی تھی اس لیے اتوار کو تعلیمی ادارے اور دفاتر کھلے تھے۔

دھماکے کے فوری بعد سرکاری و نجی دفاتر اور تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے۔ اوجڑی کیمپ کے اسلحہ خانے میں لگی آگ بھڑک رہی تھی اور کیمپ سے ملحقہ آباد گلشن دادن خان کے رہائشی گھر سرمے کا ڈھیر بن چلے تھے۔

زخمیوں کے جسموں کے اعضا اُڑ گئے تھے، جسم بُری طرح جُھلس گئے تھے، ہسپتالوں میں تل دھرنے کو جگہ نہ تھی، فوجی دستوں نے علاقے کو گھیرے میں لے رکھا تھا اور امدادی کارروائیاں عروج پر تھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں